13 مئی 2012 - 19:30

ايران اور آئي اے اي اے کے درميان جوہري مذاکرات ويانا ميں شروع ہوگئے ہيں-

ابنا: مذاکرات ميں ايران کے مستقل مندوب علي اصغر سلطانيہ اور آئي اے اي اے کے ڈائريکٹرجنرل سيف گارڈ ہرمين ناکارائٹس حصہ لے رہے ہيں-

ايران اور آئي اے اي اے کے درميان دوشنبہ سے ويانا ميں مذاکرات کا آغاز ہو گيا جو آئندہ تيئس مئ کو ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے بغداد مذاکرات کے پيش نظر اہم سمجھے جا رہے ہيں –ويانا مذاکرات کا مقصد تہران اور آئي اے اي اے کے درميان تعاون کے تناظر ميں فيصلہ اور اس عمل ميں اصلاح ہے - اس بنا پر فريقين کي جانب سے کئے جانے والے اقدامات کا تعين کيا جائے گا اسي کے ساتھ ويانا اجلاس ايٹمي معاملات پر جاري مذاکرات کا تسلسل ہے جو فريقين کے نظريات کے مطابق ممکنہ مسائل کے حل ميں مددگار ثابت ہو سکتے ہيں اسي لئے ويانا اجلاس مثبت تعاون کا ايسا حصہ ہے جو ايران اور گروپ پانچ جمع ايک کے درميان جامع مذاکرات کي پيشرفت  پر براہ راست اثر انداز ہوگا –

اسلامي جمہوريہ ايران ايٹمي انرجي سب کے لئے ، ايٹمي ہتھيار کسي کے لئے نہيں کے نعرے کے تحت ايٹمي معاملات پر منطقي مذاکرات کا قائل ہے اور اس سلسلے ميں ايسي کوئي بات نہيں ہے جو اب تک آئي اے اي اے کي اطلاع ميں نہ لائي گئ ہو –

ايران کي ايٹمي تنصيبات کا آئي اے اي اے کے معائنہ کاروں کي جانب سے مسلسل معائنہ بھي آئي اے اي اے کے ساتھ ايران کے تعاون کے شفاف ہونے کي علامت ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ايران کو اپنے ايٹمي پروگرام کے پر امن ہونے کے يقين کے ساتھ ہي ساتھ ، آئي اے اي اے کے ساتھ تعاون جاري رکھنے ميں بھي دلچسپي ہے –

اسلامي جمہوريہ ايران ايٹمي اسلحے سے پاک دنيا کا خواہاں ہے اور جاپان کو ايٹمي ہتھياروں سے نشانہ بنانے والے  امريکہ سميت ايٹمي ہتھيار بنانے والے ملکوں سے بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپني انساني اور بين الاقوامي ذمہ داريوں پر توجہ ديں اسي بنا پر آئي اے اي اے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے مندوب علي اصغر سلطانيہ نے ، اين پي ٹي پر نظر ثاني کے ابتدائي اجلاس ميں ايٹمي اسلحے کي جديدکاري اور ساخت پر مکمل پابندي کا مطالبہ کيا ہے اسي کے ساتھ ايران کو ، اين پي ٹي پر دستخط کرنے والے ملک ہونے کي وجہ سے يہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کي ترقي و پيشرفت کے لئے ، ايٹمي ٹيکنالوجي سے فائدہ اٹھائے جو ملکي توانائيوں کا ماحصل اور پر امن مقاصد پر مبني ہے........

/169